ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / نیٹ پیپر لیک معاملے میں سی بی آئی کی بڑی کارروائی، بہار سے مزید 2 ملزمین گرفتار

نیٹ پیپر لیک معاملے میں سی بی آئی کی بڑی کارروائی، بہار سے مزید 2 ملزمین گرفتار

Tue, 16 Jul 2024 20:33:50    S.O. News Service

پٹنہ  ، 16/جولائی (ایس او نیوز /ایجنسی) نیٹ پیپر لیک معاملے کی جانچ کر رہی سی بی آئی نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے بہار سے مزید 2 لوگوں کو گرفتار ہے۔ یہ گرفتاری منگل کو پٹنہ اور ہزاری باغ سے ہوئی ہے۔ سی بی آئی نے پٹنہ سے پنکج کمار کو جبکہ راجو سنگھ کو ہزاری باغ سے پکڑا ہے۔ پیپر لیک معاملے کی تفتیش جب سے سی بی آئی نے شروع کی ہے، اس وقت سے اب تک اس نے ایک درجن سے زائد لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔

گرفتار شدہ ملزم پنکج کمار کے بارے میں سی بی آئی کا کہنا ہے کہ اس نے این ٹی اے کے ٹرنک (پیپر محفوظ رکھنے کے صندوق) سے پیپر چوری کی تھی اور بعد میں اسے لیک کیا۔ ہزار ی باغ سے گرفتار راجو سنگھ کے بارے میں سی بی آئی کا کہنا ہے کہ اس نے پیپر تقسیم کرنے میں مدد کی تھی۔ یہاں یہ بات ملحوظ رہے کہ سی بی آئی کے مطابق نیٹ یوجی کا پیپر لیک ہزاری باغ کے اوئسس اسکول سے ہوا تھا۔ سی بی آئی پیپر لیک کے معاملے میں اسی اسکول کو مرکز قرار دیتے ہوئے جانچ کر رہی ہے۔

سی بی آئی نے اپنی تفتیش میں یہ بات کہی تھی کہ پیپر لیک ہزاری باغ کے اوئسس اسکول سے ہوا تھا۔ اسکول میں پہنچے پیپر کے دو سیٹ کی سیل ٹوٹی ہوئی تھی اور اس معاملے کو اٹھانے کے بجائے اسکول کا اسٹاف خاموش رہا۔ ہزاری باغ سے کئی مراکز کو سوالیہ پرچوں کے 9 سیٹ بھیجے گئے تھے۔ سی بی آئی کا کہنا ہے کہ ان میں سے دو کے سیل ٹوٹے ہوئے تھے۔ ایسے میں اگر پٹنہ سے گرفتار ملزم پنکج کے بارے میں سی بی آئی کے ذریعے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس نے این ٹی اے کے صندوق سے پیپر چرایا تھا، تو پیر لیک کی دیگر بنیادوں اور ذرائع سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

واضح رہے کہ اس مہینے کی شروعات میں سی بی آئی نے مرکزی ملزم راکیش رنجن عرف راکی ​​کو نالندہ بہار سے گرفتار کیا تھا۔ بتایا جا رہا ہے کہ راکیش رنجن نے نیٹ یوجی پیپر لیک معاملے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ راکیش رنجن کو گرفتار کرنے کے لیے سی بی آئی نے پٹنہ اور کولکاتہ میں 4 جگہوں پر چھاپے مارے تھے۔ دوسری جانب پیپر لیک کے خلاف پورے ملک میں طلبہ کا احتجاج جاری ہے۔ طلبہ کا مطالبہ ہے کہ دوبارہ نیٹ کا امتحان کرایا جائے۔ فی الوقت یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیرسماعت ہے۔


Share: